اوورسیز پاکستانی ’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘ سے منافع کما سکتے ہیں : وزیر آعظم


اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘ سے منافع کما سکتے ہیں اور ملک کی مدد کر سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کی کہ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ خریدیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا ’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کا اجرا اوورسیز پاکستانی کے لیے ہے، یقین دلاتا ہوں پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی دنیا میں ہر جگہ عزت ہوگی، اوورسیز پاکستانیوں سے کہوں گا کہ روپیا لینا ڈالر نہ لینا۔‘

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اللہ کا نظام ہے اوپر جاتے ہیں تو کہیں نہ کہیں آپ کو نیچے آنا پڑتا ہے، پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں کے لیے مثال بنائیں گے، اوورسیز پاکستانی روپے سے سرٹیفکیٹ خریدیں ڈالر میں نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد جو پاکستانیوں پر گزری اس کا ہمیں اندازہ ہے، سفارت کاروں کی اوورسیز پاکستانیوں کوسہولتیں دینے کے لیے ٹریننگ کر رہے ہیں، آپ دیکھیں گے کہ سہولتوں میں مسلسل اضافہ ہوگا، کوشش کریں گے اوورسیز پاکستانی بینکنگ چینل سے پیسے بھیجیں۔

نائن الیون کے بعد جو پاکستانیوں پر گزری اس کا ہمیں اندازہ ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو سہولتیں دینے کے لیے سفارت کاروں کی ٹریننگ کر رہے ہیں۔

عمران خان

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ بھی اوورسیز پاکستانی رہ چکے ہیں، اوورسیز پاکستانی دو دو نوکریاں اور ڈبل شفٹ کرتے ہیں، ان میں ملک کی قدر بہت زیادہ ہے، وہ سوچتے ہیں کہ کما کر پاکستان واپس چلے جائیں گے لیکن بچوں کی وجہ سے پھر وہیں رک جاتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا ’یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے مشکل ترین وقت ہے، ملک کی کسی حکومت کو کبھی اتنے خساروں کا سامنا نہیں کرنا پڑا، ملک دیوالیہ حالت میں ملا، 5 ماہ میں پتا چلا کہ پاکستان کے حالات برے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف آسان راستہ ہے مگر ان کی شرائط مشکل ہیں، مزید مہنگائی ہوتی اگر یہ قدم نہ اٹھاتے، بیلنس آف کرائسسز ابھی ختم نہیں بلکہ بہتر ہوا ہے، ملک کا یہ حشر کرپشن، بد انتظامی اور نا اہل قیادت کی وجہ سے ہوا، پہلے ہمارے ملک کی ایک عزت تھی، لیکن پھر کرپشن کا شکار ہو گیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا ’ترکی میں 42 ارب ڈالر، ملائیشیا میں 22 ارب ڈالر کی سیاحت ہوتی ہے، پاکستان کے پاس جو سیاحتی مقامات ہیں وہ دنیا میں کہیں نہیں، سیاحت کے لیے مشکلات کھڑی کی گئیں تاکہ سیاح پاکستان نہ آئیں، دنیا کے بہت سے بڑے پہاڑ پاکستان میں موجود ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’سسٹم کے ذریعے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں، ایف بی آر ٹھیک کر رہے ہیں، ملک میں سرمایہ کاری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے پاکستان کتنی تیزی سے آگے جائے گا۔‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *